چک پیراں کا جسا Download Æ 2

Summary Ô PDF, DOC, TXT, eBook or Kindle ePUB free ✓ Balwant Singh

چک پیراں کا جساAmazing PDF چک پیراں کا جسا. بلونت سنگھ سے میرا تعارف ان کے ناول رات چور اور چاند کے توسط سے ہوا۔ سادہ مگر سحر انگیز تحریر۔ کہانی ایسی کہ بس پڑھتے جائیں اور آخر تک کتاب نہ رکھ پائیں۔ اب ان کا دوسرا ناول چک پیراں کا جسا پڑھا۔ناول کی روح کو سمجھنے کے لئے آپ کو ناول کا کردار بننا پڑتا ہے۔ جب آپ کہانی کا کردار بن جاتے ہیں تو کہانی زندگی بن کر آپ میں سانس لیتی ہے۔ایک بار آپ تحریر کے ماحول میں پہنچ جائیں تو بلونت سنگھ آپ کی انگلی پکڑ کر ہر منظر کی سیر کرواتا ہے۔ رہی بات کہانی کی تو کہانی ایسی دلچسپ کہ آخری صفحہ تک تجسس قائم رہے۔ محض ایک کہانی ہے جو اپنے اندر ان گنت گہرائیوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔بلونت سنگھ ایک ماہر پینٹر ہے۔ گاوں کے ماحول، چوپال کی بیٹھک ،شریک داری، دیہاتی رہن سہن کو وہ اپنے کینوس پر پینٹ کرتا ہے۔ ۔۔۔ایک دن ہم نہیں ہونگے۔۔۔۔۔۔بلونت سنگھ ہوگا۔۔۔۔چک پیراں کا جسا زندہ رہے گا۔ محمد حامد سراج

Review چک پیراں کا جسا

چک پیراں کا جسا Download Æ 2 É ❮PDF / Epub❯ ✅ چک پیراں کا جسا ❤ Author Balwant Singh – Johns-cycling-diary.co.uk Amazing PDF, چک پیراں کا جسا By Balwant Singh This is the best favorite book with over 255 readers online here. Amazing PDF, چک پیراں کا جسا By BalBy Balwant Singh This is the best favo. یہ ناول نہیں تھا، یہ تو پنجاب کے گاؤں کی ایک خوبصورت زندگی کا جیتا جاگتا منظر تھا جسے میں اپنی آنکھوں سے بچپن میں دیکھتا رہا بظاہر سکھوں کی طرز زندگی پر لکھا جانے والا یہ ناول، حقیقتاً پنجاب کی دیہی زندگی کا بھرپور عکاس ہے اور پڑھنے والا جہاں کہیں بھی بیٹھا ہو، دوران مطالعہ وہ خود کو اسی دلکش پانچ دریاؤں کی سرزمین پنجاب کے کسی پرانے گاؤں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے پنجاب دھرتی کے دیہی ماحول کو ابھارنے میں رام لعل، غلام الثقلین اور ابو الفضل کی بھی جاندار کوششیں ہیں لیکن اگر لکھنے والا بلونت سنگھ اور لکھا جانے والا چک پیراں کا جسا ہو تو پھر یقیناً ادبی دنیا کا ایک گھبرو اور منفرد ناول وجود میں آتا ہے ایک ایسا ناول جو قاری سے سانس لیتے زندہ انسان کی مانند گفتگو کرتا ہے اور بناوٹی انداز سے کہیں دور خالص زبان اور لہجے کی عکاسی بھی کرتا ہے بارہ ابواب میں منقسم یہ ناول جس کے ہر باب کو غلاف کے نام سے اور وارث شاہ کے کلام سے شروع کیا گیا ہے، سکھوں کی ثقافت، رسم و رواج، دشمنی، رومانوی زندگی، محبت اور نفرت سمیت ان کے مزاج اور اکھڑپن کو نہایت خوبصورت انداز سے پیش کرتا ہے ناول بنیادی طور پر دو مرکزی کرداروں بگا سنگھ اور جسا سنگھ کے گرد گھومتا ہے ان ہی دو کرداروں کے ارگرد پھر گوردیپ، رام پیاری، پورن سنگھ اور صورت سنگھ سمیت دیگر کردار بھی دکھائی دیتے ہیں یتیم بھتیجا جسا سنگھ کم عمری میں جب پہلی مرتبہ اپنے چاچے بگا سنگھ کے سامنے لایا جاتا ہے تو بگا سنگھ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ اسے حقارت سے دیکھ کر اس کے سر کے جوڑے سے پکڑ کر ہوا میں لٹکاتا ہے اور کہتا ہے، پلا چاہے کتے کا ہو، یا آدمی کا، اس کی قوت برداشت کی جانچ کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے کتے کے پلے کو ایک کان سے پکڑ کر ہوا میں اٹھا دو اگر پلا درد کے مارے ٹیاؤں ٹیاؤں کرنے لگے تو سمجھ لو کہ وہ کتا پالنے کے لائق نہیں ہے ایسا کتا گھر کی رکھوالی بھی نہیں کر سکتا اگر پلا ایسی درد کو چپ چاپ برداشت کر لے تو سمجھ لو کہ وہ بڑا ہو کر سارے گاؤں کے کتوں کو کھڈیرا کرے گا اور جس گھر میں ہو گا اس میں چور پاؤں نہیں رکھ سکیں گے یہ کہہ کر وہ ہوا میں ہی جسا سنگھ کا جوڑا چھوڑ دیتا ہے تو جسا ناریل کے پیڑ پر لگے ناریل کی طرح زمین پر آن گرتا ہے مگر پل بھر میں پھر اٹھ کر کھونٹے کی طرح سیدھا ہو جاتا ہے یہی پہلی نفرت عرصہ دراز تک ان کے

Balwant Singh ✓ 2 Free read

Rite book with over readers online here. چک پیراں کا جسا پنجاب اور پنجاب کی روایتی رہتل کا بہترین ترجمان ناول ہے۔ کرداروں کی بنت سے لے کر سماجی ساخت کے ہر پہلو میں پنجاب نظر آتا ہے۔ یہ ناول پنجابی شناخت کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا خؤد کو کہانی کے کرداروں میں جیتا جاگتا محسوس کرتا ہے۔ کہانی کے بیان پر غور کریں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ مصنف کے انداز و بیان سے منظر فلم کی طرح آںکھوں کے سامنے گھومتا ہے۔ جسے کا اپنے چاچے بگا سنگھ کی بات میں 'اچھا چاچا' کہنا بھی مختلف صورتحال میں بھی مختلف معانی دیتا ہے، ناول کی کہانی بڑی سیدھی سیدھی ہے لیکن بڑے خوبصورت انداز میں بہت سی پس پردہ حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے۔